صحیح ابن حبان
كتاب الإيمان— کتاب: ایمان کے احکام و مسائل
باب ما جاء في صفات المؤمنين - ذكر البيان بأن هذا العدد المذكور في خبر سعيد بن المسيب لم يرد به النفي عما وراءه- باب: مومنین کی صفات کا بیان - اس بات کا ذکر کہ حضرت سعید بن المسیب رضی اللہ عنہ کی حدیث میں جو عدد بیان کیا گیا، اس سے ماورا کی نفی مراد نہیں لی گئی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنِ الْعَلاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " حَقُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ سِتٌّ " ، قَالُوا : مَا هُنَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " إِذَا لَقِيَهُ سَلَّمَ عَلَيْهِ ، وَإِذَا دَعَاهُ أَجَابَهُ ، وَإِذَا اسْتَنْصَحَ نَصَحَهُ ، وَإِذَا عَطَسَ فَحَمِدَ اللَّهَ يُشَمِّتُهُ ، وَإِذَا مَرِضَ عَادَهُ ، وَإِذَا مَاتَ صَحِبَهُ " .سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” ” ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر چھ حق ہیں۔ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! وہ کون سے ہیں؟ آپ نے فرمایا: جب وہ اس سے ملاقات کرے، تو اسے سلام کرے اور جب وہ اس کی دعوت کرے، تو وہ اسے قبول کرے اور جب وہ اس سے خیر خواہی کا طلب گار ہو، تو اس کی خیر خواہی کرے اور جب وہ چھینک کراللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرے، تو یہ اسے جواب دے، جب وہ بیمار ہو، تو اس کی عیادت کرے اور جب وہ فوت ہو جائے، تو یہ اس کے جنازے کے ساتھ جائے ۔“