صحیح ابن حبان
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
باب الوتر - ذكر خبر ثامن يدل على أن الوتر غير فرض باب: وتر نماز کا بیان - آٹھویں خبر کا ذکر جو اس بات کی دلیل ہے کہ وتر فرض نہیں ہے
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حِبَّانَ ، عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ ، عَنِ الْمُخْدَجِيِّ ، قَالَ : سَأَلَ رَجُلٌ أَبَا مُحَمَّدٍ رَجُلا مِنَ الأَنْصَارِ عَنِ الْوِتْرِ ، فَقَالَ : الْوِتْرُ وَاجِبٌ كَوُجُوبِ الصَّلاةِ ، فَأَتَى عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ : كَذَبَ أَبُو مُحَمَّدٍ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " خَمْسُ صَلَوَاتٍ افْتَرَضَهُنَّ اللَّهُ عَلَى عِبَادِهِ ، مَنْ لَمْ يَنْتَقِصْ مِنْهُنَّ شَيْئًا اسْتِخْفَافًا بِحَقِّهِنَّ ، فَإِنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلا جَاعِلٌ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَهْدًا أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ ، وَمَنْ جَاءَ بِهِنَّ وَقَدِ انْتَقَصَ مِنْهُنَّ شَيْئًا اسْتِخْفَافًا بِحَقِّهِنَّ ، لَمْ يَكُنْ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ شَيْءٌ ، إِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ ، وَإِنْ شَاءَ غَفَرَ لَهُ " .مخدجی بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے سیدنا ابومحمد رضی اللہ عنہ سے، جو انصار سے تعلق رکھنے والے ایک صحابی ہیں، وتر کے بارے میں دریافت کیا: تو انہوں نے فرمایا: نماز کے فرض ہونے کی طرح وتر بھی فرض ہیں۔ وہ شخص سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ ان کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا گیا تو وہ بولے: سیدنا ابومحمد رضی اللہ عنہ نے غلط کہا: ہے میں نے یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے۔ ” پانچ نمازیں ہیں جواللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر فرض کی ہیں جو شخص ان کے حق کو کم سمجھتے ہوئے ان میں کوئی کمی نہیں کرے گا، تواللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس شخص کے لیے یہ عہد مقرر کرے گا کہ اسے جنت میں داخل کرے گا اور جو شخص انہیں ادا کرے گا اور ان کے حق کو کم سمجھتے ہوئے ان میں کمی کر دے تو ایسے شخص کااللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کوئی عہد نہیں ہے۔ اگر وہ چاہے گا، تو اسے عذاب دے گا اگر چاہے گا، تو اس کی مغفرت کر دے گا ۔“