صحیح ابن حبان
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
باب الوتر - ذكر خبر ثان يدل على أن الوتر ليس بفرض باب: وتر نماز کا بیان - دوسری خبر کا ذکر جو اس بات کی دلیل ہے کہ وتر فرض نہیں ہے
حدیث نمبر: 2411
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ اللَّيْثِيُّ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا أَيُّوبَ الأَنْصَارِيَّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " الْوِتْرُ حَقٌّ ، فَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُوتِرَ بِخَمْسٍ فَلْيُوتِرْ ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُوتِرَ بِثَلاثٍ فَلْيُوتِرْ ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُوتِرَ بِوَاحِدَةٍ فَلْيُوتِرْ بِهَا ، وَمَنْ غَلَبَهُ ذَلِكَ فَلْيُومِئْ إِيمَاءً " .سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” وتر حق ہیں جو شخص پانچ وتر ادا کرنا چاہے وہ انہیں ادا کر لے اور جو شخص تین وتر ادا کرنا چاہے وہ انہیں ادا کر لے اور جو شخص ایک وتر ادا کرنا چاہے وہ اسے ادا کر لے اور جو شخص انہیں ادا نہ کر سکتا ہو وہ انہیں اشارے کے ساتھ پڑھ لے۔ “