صحیح ابن حبان
كتاب الإيمان— کتاب: ایمان کے احکام و مسائل
باب ما جاء في صفات المؤمنين - ذكر البيان بأن هذا العدد الذي ذكره المصطفى صلى الله عليه وسلم في خبر أبي مسعود لم يرد به النفي عما وراءه- باب: مومنین کی صفات کا بیان - اس بات کا ذکر کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابومسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث میں جو عدد بیان فرمایا، اس سے ماورا کی نفی مراد نہیں لی۔
حدیث نمبر: 241
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيَمَ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " حَقُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ خَمْسٌ : رَدُّ السَّلامِ ، وَعِيَادَةُ الْمَرِيضِ ، وَاتِّبَاعُ الْجَنَائِزِ ، وَإِجَابَةُ الدَّعْوَةِ ، وَتَشْمِيتُ الْعَاطِسِ " .سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر پانچ حق ہیں۔ سلام کا جواب دینا، بیمار کی عیادت کرنا، جنازے کے ساتھ جانا، دعوت کو قبول کرنا اور چھینکنے والے کا جواب دینا ۔“