صحیح ابن حبان
كتاب الإيمان— کتاب: ایمان کے احکام و مسائل
باب ما جاء في صفات المؤمنين - ذكر البيان بأن المصطفى صلى الله عليه وسلم لم يرد بهذا العدد المذكور نفيا عما وراءه- باب: مومنین کی صفات کا بیان - اس بات کا ذکر کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عدد کے ساتھ ماورا کی نفی مراد نہیں لی۔
حدیث نمبر: 240
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ أَفْلَحَ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لِلْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ أَرْبَعُ خِلالٍ : يَعُودُهُ إِذَا مَرِضَ ، وَيَشْهَدُهُ إِذَا مَاتَ ، وَيُشَمِّتُهُ إِذَا عَطَسَ ، وَيُجِيبُهُ إِذَا دَعَاهُ " .سیدنا ابومسعود رضی الله عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر چار حق ہیں۔ جب وہ بیمار ہو جائے، تو اس کی عیادت کرے، جب وہ فوت ہو جائے، تو اس کے جنازے میں شریک ہو، جب وہ چھینکے، تو وہ اسے چھینک کا جواب دے اور جب وہ اس کی دعوت کرے، تو وہ اس کی دعوت قبول کرے۔ “