صحیح ابن حبان
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
باب إعادة الصلاة - ذكر الخبر الدال على أن الزجر لم يرد به إلا الفريضة التي يعيد الإنسان إياها ثانيا بعينها دون من نوى في إعادته التطوع باب: نماز دوبارہ ادا کرنے کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی دلیل ہے کہ منع صرف اس فرض کے لیے ہے جسے انسان دوبارہ اسی طرح ادا کرتا ہے، نہ کہ اس کے لیے جو دوبارہ پڑھنے میں نفل کا ارادہ کرتا ہے
حدیث نمبر: 2397
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بِسْطَامٍ ، بِالأُبُلَّةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ النَّاجِيِّ ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : دَخَلَ رَجُلٌ الْمَسْجِدَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ صَلَّى ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلا مَنْ يَتَصَدَّقُ عَلَى هَذَا فَلْيُصَلِّ مَعَهُ " .سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔ ایک شخص مسجد میں داخل ہوا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کیا کوئی شخص اس پر صدقہ کرے گا، یوں کہ وہ اس کے ساتھ نماز ادا کر لے۔