صحیح ابن حبان
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
باب إعادة الصلاة باب: نماز دوبارہ ادا کرنے کا بیان -
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الدُّولابِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ الأَسْوَدِ الْعَامِرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَّتَهُ ، فَصَلَّيْتُ مَعَهُ صَلاةَ الصُّبْحِ فِي مَسْجِدِ الْخَيْفِ مِنْ مِنًى ، فَلَمَّا قَضَى صَلاتَهُ إِذَا رَجُلانِ فِي آخِرِ النَّاسِ لَمْ يُصَلِّيَا ، فَأُتِيَ بِهِمَا تَرْعَدُ فَرَائِصُهُمَا ، فَقَالَ : " مَا مَنَعَكُمَا أَنْ تُصَلِّيَا مَعَنَا ؟ " قَالا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كُنَّا قَدْ صَلَّيْنَا فِي رِحَالِنَا ، قَالَ : " فَلا تَفْعَلا ، إِذَا صَلَّيْتُمَا فِي رِحَالِكُمَا ، ثُمَّ أَتَيْتُمَا مَسْجِدَ جَمَاعَةٍ فَصَلِّيَا مَعَهُمْ ، فَإِنَّهَا لَكُمْ نَافِلَةٌ " .جابر بن یزید عامری اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں۔ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حج میں شریک ہوا تھا۔ میں نے ” منی “ میں مسجد خیف میں صبح کی نماز آپ کی اقتداء میں ادا کی جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کی تو لوگوں کے پیچھے دو ایسے افراد موجود تھے، جنہوں نے نماز ادا نہیں کی تھی۔ ان دونوں کو لایا گیا تو وہ کانپ رہے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: تم نے ہمارے ساتھ نماز ادا کیوں نہیں کی۔ انہوں نے عرض کی: ہم اپنی رہائشی جگہ پر پہلے ہی نماز ادا کر چکے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ایسا نہ کرو جب تم اپنی رہائشی جگہ پر نماز ادا کر چکے ہو اور پھر تم باجماعت نماز والی مسجد میں آؤ تو ان لوگوں کے ساتھ بھی نماز ادا کرو یہ تمہارے لیے نفل ہو جائے گی۔