صحیح ابن حبان
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
باب ما يكره للمصلي وما لا يكره - ذكر البيان بأن هذه الأشياء الثلاثة إنما تقطع صلاة المصلي إذا لم يكن قدامه سترة باب: نماز کے دوران ناپسندیدہ اور ناپسندیدہ نہ ہونے والے اعمال کا بیان - اس بات کا بیان کہ یہ تین چیزیں نمازی کی نماز کو اس وقت توڑتی ہیں جب اس کے سامنے سترہ نہ ہو
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلالٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا لَمْ يَكُنْ بَيْنَ يَدَيْهِ مِثْلُ آخِرَةِ الرَّحْلِ ، فَإِنَّهُ يَقْطَعُ صَلاتَهُ الْمَرْأَةُ ، وَالْحِمَارُ ، وَالْكَلْبُ الأَسْوَدِ " ، قَالَ : قُلْتُ : يَا أَبَا ذَرٍّ ، فَمَا بَالُ الْكَلْبِ الأَسْوَدِ مِنَ الْكَلْبِ الأَحْمَرِ مِنَ الْكَلْبِ الأَصْفَرِ ؟ ، قَالَ : يَا ابْنَ أَخِي ، إِنِّي سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَمَّا سَأَلْتَنِي عَنْهُ ، فَقَالَ : " الْكَلْبُ الأَسْوَدُ شَيْطَانٌ " .عبداللہ بن صامت سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں۔ ” جب کسی شخص کے سامنے پالان کی پچھلی لکڑی جتنی کوئی چیز (سترے کے طور پر) نہ ہو، تو عورت گدھا اور سیاہ کتا (اس کے آگے سے گزر کر) اس کی نماز کو توڑ دیتے ہیں۔ “ راوی کہتے ہیں: اے (سیدنا) ابوذر (رضی اللہ عنہ)! سیاہ کتا کیوں؟ سرخ کتا یا زرد کتا کیوں نہیں، تو انہوں نے فرمایا: اے میرے بھیجے جس چیز کے بارے میں تم نے تجھ سے سوال کیا ہے اس کے بارے میں، میں نے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تھا تو آپ نے ارشاد فرمایا: سیاہ کتا شیطان ہوتا ہے۔