صحیح ابن حبان
كتاب الإيمان— کتاب: ایمان کے احکام و مسائل
باب ما جاء في صفات المؤمنين - ذكر إثبات وجود حلاوة الإيمان لمن أحب قوما لله جل وعلا- باب: مومنین کی صفات کا بیان - اس بات کا ذکر کہ جو اللہ جل وعلا کے لیے کسی قوم سے محبت رکھے اسے ایمان کی مٹھاس نصیب ہوتی ہے۔
حدیث نمبر: 238
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " ثَلاثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ وَجَدَ حَلاوَةَ الإِيمَانِ : أَنْ يَكُونَ الِلَّهِ وَرَسُولُهُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا سِوَاهُمَا ، وَأَنْ يُحِبَّ الْمَرْءَ لا يُحِبُّهُ إِلا لِلَّهِ ، وَأَنْ يَكْرَهَ أَنْ يَعُودَ فِي الْكُفْرِ كَمَا يَكْرَهُ أَنْ تُوقَدْ لَهُ نَارٌ فَيُقْذَفَ فِيهَا " .سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” تین خصوصیات جس شخص میں ہوں گی، وہ ایمان کی حلاوت کو پا لے گا۔ ایک یہ کہ اللہ اور اس کا رسول، اس کے نزدیک ان دونوں کے علاوہ ہر چیز سے زیادہ محبوب ہوں۔ (دوسری) یہ کہ وہ کسی شخص کے ساتھ محبت رکھتا ہو، اور وہ صرف اللہ کے لئے اس سے محبت رکھتا ہو۔ اور (تیسری) یہ کہ وہ کفر کی طرف واپس جانے کو اسی طرح ناپسند کرے، جس طرح وہ اس بات کو ناپسند کرتا ہے کہ آگ جلا کر اسے اس آگ میں ڈال دیا جائے ۔“