صحیح ابن حبان
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
باب ما يكره للمصلي وما لا يكره - ذكر البيان بأن قوله صلى الله عليه وسلم فإنما هو شيطان أراد به أن معه شيطانا يدله على ذلك الفعل لا أن المرء المسلم يكون شيطانا باب: نماز کے دوران ناپسندیدہ اور ناپسندیدہ نہ ہونے والے اعمال کا بیان - اس بات کا بیان کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قول "وہ شیطان ہے" سے مراد یہ ہے کہ اس کے ساتھ شیطان ہے جو اسے اس عمل کی طرف رہنمائی کرتا ہے، نہ کہ یہ کہ وہ شخص خود شیطان ہے
حدیث نمبر: 2369
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي صَدَقَةُ بْنُ يَسَارٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا تُصَلُّوا إِلا إِلَى سُتْرَةٍ ، وَلا يَدَعْ أَحَدًا يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَإِنْ أَبَى ، فَلْيُقَاتِلْهُ ، فَإِنَّ مَعَهُ الْقَرِينَ " .سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” تم لوگ صرف کسی سترہ کی طرف رخ کر کے نماز ادا کرو اور کسی کو اپنے آگے سے نہ گزرنے دو اگر وہ نہیں مانتا تو آدمی کو اس سے جھگڑا کرنا چاہیئے کیونکہ اس (دوسرے شخص) کے ساتھ شیطان ہو گا۔