صحیح ابن حبان
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
باب ما يكره للمصلي وما لا يكره - ذكر الأمر للمصلي بمقاتلة من يريد المرور بين يديه باب: نماز کے دوران ناپسندیدہ اور ناپسندیدہ نہ ہونے والے اعمال کا بیان - اس حکم کا ذکر کہ نمازی اس شخص سے لڑے جو اس کے سامنے سے گزرنا چاہے
حدیث نمبر: 2368
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ يُصَلِّي ، فَلا يَدَعْ أَحَدًا يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ ، وَلْيَدْرَأْهُ مَا اسْتَطَاعَ ، فَإِنْ أَبَى ، فَلْيُقَاتِلْهُ ، فَإِنَّمَا هُوَ شَيْطَانٌ " .سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” جب کوئی شخص نماز ادا کر رہا ہو، تو کسی کو اپنے آگے سے نہ گزرنے دے۔ جہاں تک اس سے ہو سکے وہ اسے پرے کرنے کی کوشش کرے اگر وہ (دوسرا شخص) نہیں مانتا تو یہ اس کے ساتھ جھگڑا کرے کیونکہ وہ (دوسرا شخص) شیطان ہو گا۔