صحیح ابن حبان
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
باب ما يكره للمصلي وما لا يكره - ذكر البيان بأن عائشة كانت تنام معترضة في القبلة والمصطفى صلى الله عليه وسلم يصلي وهي بينه وبينها باب: نماز کے دوران ناپسندیدہ اور ناپسندیدہ نہ ہونے والے اعمال کا بیان - اس بات کا بیان کہ عائشہ رضی اللہ عنہا قبلہ میں لیٹ کر سوتی تھیں اور مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے اور قبلہ کے درمیان نماز پڑھتے تھے
حدیث نمبر: 2345
أَخْبَرَنَا فِي عَقِبِهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ : قَالَ أَيُّوبُ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ : مُعْتَرِضَةٌ كَاعْتِرَاضِ الْجَنَازَةِ .ہشام بن عروہ نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں۔ (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں) ” میں چوڑائی کی سمت میں یوں لیٹی ہوتی تھی، جس طرح جنازہ (امام کے سامنے) پڑا ہوتا ہے۔