صحیح ابن حبان
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
باب ما يكره للمصلي وما لا يكره - ذكر البيان بأن قول أم حبيبة إذا لم ير فيه أذى أرادت به غير المني باب: نماز کے دوران ناپسندیدہ اور ناپسندیدہ نہ ہونے والے اعمال کا بیان - اس بات کا بیان کہ ام حبیبہ کے قول "اگر اس میں کوئی نجاست نہ ہو" سے مراد منی کے علاوہ ہے
حدیث نمبر: 2332
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَاصِلٌ الأَحْدَبُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ : رَأَتْنِي عَائِشَةُ أَغْسِلُ أَثَرَ الْجَنَابَةِ أَصَابَ ثَوْبِي ، فَقَالَتْ : مَا هَذَا ؟ فَقُلْتُ : أَثَرُ جَنَابَةٍ أَصَابَ ثَوْبِي ، فَقَالَتْ : " لَقَدْ رَأَيْتُنِي وَإِنَّهُ لَيُصِيبُ ثَوْبَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَمَا يَزِيدُ عَلَى أَنْ يَقُولَ : هَكَذَا نَفْرُكُهُ " .اسود بن یزید بیان کرتے ہیں: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھے دیکھا، میں اپنے کپڑے پر سے جنابت کے نشان کو دھو رہا تھا: تو انہوں نے فرمایا: یہ کیا ہے میں نے جواب دیا: یہ جنابت کا نشان ہے، جو میرے کپڑے پر لگ گیا تھا تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: مجھے اپنے بارے میں یہ بات یاد ہے، یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے پر بھی لگتا تھا تو آپ یہ فرماتے تھے، ہم اس طرح اسے کھرچ دیں۔