حدیث نمبر: 2271
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ عَجْلانَ ، سَمِعَ عِيَاضَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي السَّرْحِ ، سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولُ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُعْجِبُهُ هَذِهِ الْعَرَاجِينُ ، وَيُمْسِكُهَا فِي يَدِهِ ، فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ وَفِي يَدِهِ مِنْهَا قَضِيبٌ ، فَحَكَّهَا بِهِ ، يُرِيدُ : بَزْقَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ ، وَنَهَى أَنْ يَبْزُقَ الرَّجُلُ بَيْنَ يَدَيْهِ ، أَوْ عَنْ يَمِينِهِ ، وَقَالَ : " لِيَبْزُقْ عَنْ يَسَارِهِ ، أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ الْيُسْرَى ، فَإِنْ عَجِلَتْ بِهِ بَادِرَةٌ ، فَلْيَجْعَلْهَا فِي ثَوْبِهِ ، وَلْيَقُلْ بِهَا هَكَذَا " ، وَأَشَارَ سُفْيَانُ يَدْلُكُ طَرَفَ كُمِّهِ بِإِصْبَعِهِ .

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو چھڑی رکھنا پسند تھا۔ آپ اسے اپنے دست اقدس میں رکھتے تھے۔ ایک دن آپ مسجد میں داخل ہوئے، تو آپ کے دست مبارک میں چھڑی تھی۔ آپ نے اس کے ذریعے اسے کھرچ دیا۔ راوی کی مراد یہ ہے، مسجد میں قبلہ کی سمت میں لگے ہوئے بلغم کو کھرچ دیا اور آپ نے اس بات سے منع کیا، آدمی اپنے سامنے کی طرف یا اپنے دائیں طرف تھوکے۔ آپ نے ارشاد فرمایا: اسے بائیں طرف یا اپنے بائیں پاؤں کے نیچے تھوکنا چاہیئے اور اگر تھوک تیزی سے آ رہا ہو، تو اسے اپنے کپڑے میں پھینک دینا چاہیئے اور پھر اس طرح کر دینا چاہئے۔ سفیان نے اپنی انگلیوں کے ذریعے آستین کے کنارے کو مل کر اشارہ کر کے بتایا۔

حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 2271
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن صحيح - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2268»