صحیح ابن حبان
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
باب ما يكره للمصلي وما لا يكره - ذكر البيان بأن المصلي إذا بدرته بادرة ولم يدفن بزقته تحت رجله اليسرى له أن يدلك بها ثوبه بعضه ببعض باب: نماز کے دوران ناپسندیدہ اور ناپسندیدہ نہ ہونے والے اعمال کا بیان - اس بات کا بیان کہ اگر نمازی کو اچانک تھوک آ جائے اور وہ اسے اپنے بائیں پاؤں کے نیچے نہ دفن کر سکے تو اسے اپنے کپڑے کے ایک حصے کو دوسرے سے رگڑ کر صاف کرنے کی اجازت ہے
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِيَاضُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُعْجِبُهُ الْعَرَاجِينُ يُمْسِكُهَا بِيَدِهِ ، فَدَخَلَ يَوْمًا الْمَسْجِدَ وَفِي يَدِهِ مِنْهَا وَاحِدَةٌ ، فَرَأَى نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ ، فَحَتَّهَا بِهِ حَتَّى أَنْقَاهَا ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ مُغْضَبًا ، فَقَالَ : " أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ يَسْتَقْبِلَهُ الرَّجُلُ فَيَبْصُقَ فِي وَجْهِهِ ، إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلاةِ فَإِنَّمَا يَسْتَقْبِلُ بِهِ رَبَّهُ ، وَالْمَلَكُ عَنْ يَمِينِهِ ، فَلا يَبْصُقْ بَيْنَ يَدَيْهِ ، وَلا عَنْ يَمِينِهِ ، وَلَكِنْ عَنْ يَسَارِهِ تَحْتَ قَدَمِهِ الْيُسْرَى ، فَإِنْ عَجِلَتْ بِهِ بَادِرَةٌ ، فَلْيَقُلْ هَكَذَا " ، وَتَفَلَ فِي ثَوْبِهِ ، وَرَدَّ بَعْضَهُ بِبَعْضٍ .سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہاتھ میں چھڑی رکھنا پسند تھا ایک دن آپ مسجد میں داخل ہوئے۔ ایک چھڑی آپ کے ہاتھ میں تھی۔ آپ نے مسجد کے قبلہ کی سمت (والی دیوار) پر بلغم لگی ہوئی دیکھی تو آپ نے اسے کھرچ کر اچھی طرح صاف کیا، پھر آپ غضب کی حالت میں لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور ارشاد فرمایا: تم میں سے کوئی ایک شخص اس بات کو پسند کرے گا، کوئی شخص اس کے سامنے آئے، اور اس کے چہرے کی طرف منہ کر کے تھوک دے جب آدمی نماز پڑھنے کے لیے کھڑا ہوتا ہے، تو اس کا پروردگار اس کے مدمقابل ہوتا ہے اور فرشتہ اس کے دائیں طرف ہوتا ہے اس لیے اسے اپنے سامنے کی طرف یا دائیں طرف نہیں تھوکنا چاہیئے بلکہ اپنے بائیں طرف اپنے بائیں پاؤں کے نیچے تھوکنا چاہیئے اور اگر تھوک تیزی سے آ جائے، تو اسے اس طرح کرنا چاہیئے یعنی اپنے کپڑے میں تھوک کر اسے مل دے۔