صحیح ابن حبان
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
باب ما يكره للمصلي وما لا يكره - ذكر إباحة بكاء المرء في صلاته إذا لم يكن ذلك لأسباب الدنيا باب: نماز کے دوران ناپسندیدہ اور ناپسندیدہ نہ ہونے والے اعمال کا بیان - اس بات کی اجازت کا ذکر کہ آدمی اپنی نماز میں رونا جائز ہے اگر یہ دنیاوی اسباب کی وجہ سے نہ ہو
حدیث نمبر: 2257
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ : " مَا كَانَ فِينَا فَارِسٌ يَوْمَ بَدْرٍ غَيْرَ الْمِقْدَادِ ، وَلَقَدْ رَأَيْتُنَا وَمَا فِينَا قَائِمٌ إِلا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَحْتَ شَجَرَةٍ يُصَلِّي وَيَبْكِي حَتَّى أَصْبَحَ " .سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔ غزوہ بدر کے موقع پر مقداد کے علاوہ ہم میں سے اور کوئی گھڑ سوار نہیں تھا اور مجھے یاد ہے، ہم میں سے ہر شخص کھڑا ہوا تھا۔ (یہاں روایت کا لفظ غلط نقل ہوا ہے اصل لفظ یہ ہے، ہم میں سے ہر شخص سویا ہوا تھا) صرف نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (جاگتے رہے تھے) آپ ایک درخت کے نیچے نماز ادا کرتے رہے اور روتے رہے، یہاں تک کہ صبح ہو گئی۔