صحیح ابن حبان
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
باب ما يكره للمصلي وما لا يكره - ذكر الأخبار المصرحة بأن أبا هريرة شهد هذه الصلاة مع رسول الله صلى الله عليه وسلم لا أنه حكاهما كما توهم من جهل صناعة الحديث حيث لم ينعم النظر في متون الأخبار ولا تفقه في صحيح الآثار باب: نماز کے دوران ناپسندیدہ اور ناپسندیدہ نہ ہونے والے اعمال کا بیان - ان خبروں کا ذکر جو واضح کرتی ہیں کہ ابو ہریرہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس نماز میں شرکت کی، نہ کہ اسے دوسروں سے نقل کیا جیسا کہ حدیث کی صنعت سے ناواقف نے وہم کیا کیونکہ اس نے خبروں کے متون پر غور نہیں کیا اور نہ ہی صحیح آثار میں تفہیم حاصل کی
حدیث نمبر: 2253
وَأَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمَذَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " صَلَّى بِنَا أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .سیدنا ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی۔ (اس کے بعد حسب سابق حدیث ہے)۔