حدیث نمبر: 2244
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ أَبِي النَّجُودِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : كُنَّا نُسَلِّمُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الصَّلاةِ فَيَرُدُّ عَلَيْنَا قَبْلَ أَنْ نَأْتِيَ أَرْضَ الْحَبَشَةِ ، فَلَمَّا رَجَعْنَا مِنْ عِنْدِ النَّجَاشِيِّ ، أَتَيْتُهُ وَهُوَ يُصَلِّي فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ السَّلامَ ، فَأَخَذَنِي مَا قَرُبَ وَمَا بَعُدَ ، فَجَلَسْتُ أَنْتَظِرُهُ ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلاةَ ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، سَلَّمْتُ عَلَيْكَ وَأَنْتَ تُصَلِّي فَلَمْ تَرُدَّ عَلَيَّ السَّلامَ ، فَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ يُحْدِثُ مِنْ أَمْرِهِ مَا يَشَاءُ ، وَقَدْ أَحْدَثَ أَنْ لا نَتَكَلَّمَ فِي الصَّلاةِ " .

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: پہلے ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کرتے تھے۔ اس وقت جب آپ نماز پڑھ رہے ہوتے تھے، تو آپ ہمیں سلام کا جواب دے دیا کرتے تھے یہ ہمارے حبشہ کی سرزمین سے (مدینہ منورہ) آنے سے پہلے کی بات ہے۔ جب ہم نجاشی کی طرف سے واپس آئے، تو میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ اس وقت نماز پڑھ رہے تھے میں نے آپ کو سلام کیا، تو آپ نے مجھے سلام کا جواب نہیں دیا۔ مجھے طرح طرح کے اندیشے آنے لگے۔ میں آپ کے انتظار میں بیٹھ گیا جب آپ نے نماز مکمل کی تو میں نے عرض کی: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)! میں نے آپ کو سلام کیا تھا۔ آپ اس وقت نماز پڑھ رہے تھے لیکن آپ نے مجھے سلام کا جواب نہیں دیا۔ (ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں) پہلے آپ سلام کا جواب دیا کرتے تھے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:اللہ تعالیٰ جو چاہے نیا فیصلہ دے سکتا ہے اور اس نے نیا حکم یہ دیا ہے، ہم نماز کے دوران کلام نہیں کریں گے۔ “

حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 2244
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن صحيح - انظر ما قبله. * [وَفِي رِوَايَة: إِنَّكَ كُنتَ تَرُدُّ عَلَيْنَا] قال الناشر: سقطت من «طبعة المؤسسة»، واستدركها الشيخ بخطه. تنبيه!! ما بين المعقوفين زيادة من «طبعة باوزير» - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن، وانظر ما قبله.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2241»