صحیح ابن حبان
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
باب ما يكره للمصلي وما لا يكره - ذكر الخبر المصرح بمعنى ما أشرنا إليه باب: نماز کے دوران ناپسندیدہ اور ناپسندیدہ نہ ہونے والے اعمال کا بیان - اس خبر کا ذکر جو ہمارے اشارہ کردہ معنی کو واضح کرتی ہے
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : كُنَّا نُسَلِّمُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَيَرُدُّ عَلَيْنَا ، يَعْنِي فِي الصَّلاةِ ، فَلَمَّا أَنْ جِئْنَا مِنْ أَرْضِ الْحَبَشَةِ ، سَلَّمْتُ عَلَيْهِ ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ ، فَأَخَذَنِي مَا قَرُبَ وَمَا بَعُدَ ، فَجَلَسْتُ حَتَّى قَضَى الصَّلاةَ ، قُلْتُ لَهُ : إِنَّكَ كُنْتَ تَرُدُّ عَلَيْنَا ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ يُحْدِثُ مِنْ أَمْرِهِ مَا شَاءَ ، وَقَدْ أَحْدَثَ مِنْ أَمْرِهِ قَضَاءً أَنْ لا تَكَلَّمُوا فِي الصَّلاةِ " .سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: پہلے ہم لوگ (نماز کے دوران) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کرتے تھے، تو آپ ہمیں سلام کا جواب دیا کرتے تھے۔ راوی کہتے ہیں: یعنی نماز کے دوران ایسا ہوتا تھا، پھر جب ہم حبشہ کی سرزمین سے (مدینہ منورہ) آئے، تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو (آپ کے نماز پڑھنے کے دوران) سلام کیا، تو آپ نے مجھے جواب نہیں دیا۔ مجھے طرح طرح کے اندیشے آنے لگے۔ میں بیٹھ گیا یہاں تک کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کی تو میں نے آپ کی خدمت میں عرض کی: پہلے، تو آپ ہمیں سلام کا جواب دے دیتے تھے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:اللہ تعالیٰ جو چاہے نیا فیصلہ دے سکتا ہے اور اس نے اس بارے میں نیا فیصلہ یہ دیا ہے، تم لوگ نماز کے دوران کلام نہ کرو۔ “