صحیح ابن حبان
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
باب ما يكره للمصلي وما لا يكره - ذكر الخبر المصرح بمعنى ما أشرنا إليه باب: نماز کے دوران ناپسندیدہ اور ناپسندیدہ نہ ہونے والے اعمال کا بیان - اس خبر کا ذکر جو ہمارے اشارہ کردہ معنی کو واضح کرتی ہے
حدیث نمبر: 2242
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بَحْرِ بْنِ مُعَاذٍ الْبَزَّازُ ، بِنَسَا ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ شَابُورَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَلاءِ بْنِ زَبْرٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى صَلاةً ، فَالْتُبِسَ عَلَيْهِ ، فَلَمَّا فَرَغَ ، قَالَ لأَبِي : " أَشَهِدْتَ مَعَنَا ؟ " قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : " فَمَا مَنَعَكَ أَنْ تَفْتَحَهَا عَلَيَّ ؟ " .سالم بن عبداللہ اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک نماز ادا کر رہے تھے۔ اس دوران آپ کو شبہ لاحق ہوا جب آپ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے، تو آپ نے میرے والد سے فرمایا کیا تم ہمارے ساتھ (نماز میں) شریک تھے۔ انہوں نے عرض کی: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر تم نے مجھے لقمہ کیوں نہیں دیا؟