حدیث نمبر: 2191
أَخْبَرَنَا بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْقَزَّازُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ ، أَنَّ رَجُلا دَخَلَ الْمَسْجِدَ بَعْدَمَا أُقِيمَتِ الصَّلاةُ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ دَخَلَ الصَّفَّ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " بِأَيَّتِهِمَا اعْتَدَدْتَ ، أَوْ بِأَيَّتِهِمَا احْتَسَبْتَ ؟ الَّتِي صَلَّيْتَ مَعَنَا أَوِ الَّتِي صَلَّيْتَ وَحْدَكَ ؟ " .

سیدنا عبداللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص اقامت ہو جانے کے بعد مسجد میں داخل ہوا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز ادا کر رہے تھے۔ اس شخص نے دو رکعات ادا کی پھر اس کے بعد صف میں شامل ہوا جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کر لی، تو آپ نے دریافت کیا: تم نے ان دونوں میں سے کس کو شمار کیا ہے۔ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں:) ان دونوں میں سے کس کے ذریعے تو اب کی امید رکھی ہے۔ وہ نماز جو تم نے ہمارے ساتھ ادا کی ہے یا وہ نماز جو تم نے تنہا ادا کی ہے۔

حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 2191
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (2588): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح، عبد الله بن معاوية لم يخرجا له، وهو ثقة، ومن فوقه من رجال الشيخين غير صحابيه، فإنه من رجال مسلم.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2188»