صحیح ابن حبان
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
باب فرض متابعة الإمام - ذكر ما يتوقع في المأمومين عند تركهم لتسوية الصفوف في الصلاة باب: امام کی پیروی کی فرضیت کا بیان - اس بات کا ذکر کہ اگر مأموم نماز میں صفوں کو برابر نہ کریں تو ان کے ساتھ کیا متوقع ہے
حدیث نمبر: 2175
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ الْمِنْهَالِ بْنِ أَخِي الْحَجَّاجِ الْعَطَّارُ ، بِالْبَصْرَةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذِ بْنِ مُعَاذٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سِمَاكٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ ، وَهُوَ يَخْطُبُ وَيَقُولُ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَوِّي الصَّفَّ ، حَتَّى يَدَعَهُ مِثْلَ الْقِدْحِ أَوِ الرُّمْحِ ، فَرَأَى صَدْرَ رَجُلٍ نَاتِئًا مِنَ الصَّفِّ ، فَقَالَ : " عِبَادَ اللَّهِ لَتُسَوُّنَّ صُفُوفَكُمْ ، أَوْ لَيُخَالِفَنَّ اللَّهُ بَيْنَ وُجُوهِكُمْ " .سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیتے ہوئے یہ بات بیان کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صعف درست کروایا کرتے تھے، یہاں تک کہ آپ اسے تیر یا نیزے کی مانند کر دیتے تھے۔ ایک مرتبہ آپ نے ایک شخص کے سینے کو صف سے آگے نکلا ہوا دیکھا تو ارشاد فرمایا: اے اللہ کے بندو! تم لوگ یا تو صفیں درست رکھو گے یااللہ تعالیٰ تمہارے درمیان اختلاف پیدا کر دے گا۔