حدیث نمبر: 2148
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ الْعَلاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، وَإِسْحَاقِ أبي عبد الله ، أنهما أخبراه أنهما سمعا أبا هريرة ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا ثُوِّبَ بِالصَّلاةِ ، فَلا تَأْتُوهَا وَأَنْتُمْ تَسْعَوْنَ ، وَائْتُوهَا وَعَلَيْكُمُ السَّكِينَةُ ، فَمَا أَدْرَكْتُمْ فَصَلُّوا ، وَمَا فَاتَكُمْ فَأَتِمُّوا ، فَإِنَّ أَحَدَكُمْ فِي صَلاةٍ مَا كَانَ يَعْمِدُ إِلَى الصَّلاةِ " . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : قَالَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا : إِذَا نُودِيَ لِلصَّلاةِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ سورة الجمعة آية 9 ، وَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَلا تَأْتُوهَا وَأَنْتُمْ تَسْعَوْنَ " . فَالسَّعْيُ الَّذِي أَمَرَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا بِهِ هُوَ الْمَشْيُ إِلَى الصَّلاةِ عَلَى هَيْنَةِ الإِنْسَانِ ، وَالسَّعْيُ الَّذِي نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُ هُوَ الاسْتِعْجَالُ فِي الْمَشْيِ ، لأَنَّ الْمَرْءَ تُكْتَبُ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ يَخْطُوهَا إِلَى الصَّلاةِ حَسَنَةٌ ، فَذَلِكَ مَا وَصَفْتُ ، يَعْنِي فِي تَرْجَمَةِ نَوْعِ هَذَا الْحَدِيثِ عَلَى أَنَّ الْعَرَبَ تُوقِعَ فِي لُغَتِهَا الاسْمَ الْوَاحِدَ عَلَى الشَّيْئَيْنِ الْمُخْتَلِفِي الْمَعْنَى ، فَيَكُونُ أَحَدُهُمَا مَأْمُورًا بِهِ ، وَالآخَرُ مَزْجُورًا عَنْهُ . إِسْحَاقُ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَى زَائِدَةَ مِنَ التَّابِعِينَ ، قَالَهُ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ .

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” جب نماز کے لیے اقامت کہی جائے، تو تم دوڑتے ہوئے اس کی طرف نہ آؤ بلکہ سکون سے چلتے ہوئے آؤ جتنی نماز تمہیں مل جائے اسے ادا کر لو اور جو گزر چکی ہو اسے (بعد) میں مکمل کر لو کیونکہ جب کوئی شخص نماز کی طرف جاتا ہے، تو وہ نماز کی حالت میں شمار ہوتا ہے۔ “ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:)اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” جب جمعہ کے دن نماز کے لیے اذان دی جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف تیزی سے جاؤ۔“ جبکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے۔ کہ تم لوگ دوڑتے ہوئے اس کی طرف نہ آؤ تو وہ تیزی جس سے حکم اللہ نے دیا ہے۔ اس سے مراد آدمی کا سکون کی حالت میں نماز کی طرف چل کر جانا ہے اور وہ تیزی جس کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا ہے۔ اس سے مراد تیز رفتاری سے چلنا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آدمی کے ہر ایک قدم کے عوض میں اس کے لیے نیکیاں نوٹ کی جاتی ہیں۔ جیسا کہ میں نے پہلے ذکر کیا ہے یعنی اس نوعیت کی احادیث کی وضاحت میں یہ بات ذکر کی ہے۔ کہ جب عرب اپنی زبان میں کسی ایک اسم کو دو مختلف چیزوں کے لیے استعمال کریں۔ تو ان دونوں میں سے کوئی ایک ماموربہ بہی بھی ہو سکتا اور دوسرا ممنوع ہو سکتا ہے۔ اسحاق ابوعبداللہ جو زاہدہ کا غلام ہے وہ تابعین سے تعلق رکھتا ہے یہ بات امام ابوحاتم نے بیان کی ہے۔

حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 2148
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (580). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2145»