حدیث نمبر: 2147
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : بَيْنَمَا نَحْنُ نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذْ سَمِعَ جَلَبَةَ رِجَالٍ ، فَلَمَّا صَلَّى دَعَاهُمْ ، فَقَالَ : " مَا شَأْنُكُمْ ؟ " . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، اسْتَعْجَلْنَا إِلَى الصَّلاةِ . قَالَ : " لا تَسْتَعْجِلُوا إِذَا أَتَيْتُمُ الصَّلاةَ فَعَلَيْكُمُ السَّكِينَةُ ، فَمَا أَدْرَكْتُمْ فَصَلُّوا ، وَمَا سُبِقْتُمْ فَأَتِمُّوا " .

عبداللہ بن ابوقتادہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں، ایک مرتبہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز ادا کر رہے تھے۔ اسی دوران آپ نے کچھ لوگوں کی تیز آہٹ سنی جب آپ نے نماز مکمل کی تو آپ نے انہیں بلوایا اور دریافت کیا: تمہیں کیا ہوا تھا۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)! ہم نماز کی طرف جلدی آنا چاہ رہے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم لوگ جلد بازی کا مظاہرہ نہ کرو تم نماز کی طرف آؤ تو سکون سے چلتے ہوئے آؤ جتنی نماز تمہیں ملے اسے ادا کر لو اور جو پہلے گزر چکی ہو اسے (بعد) میں مکمل کر لو۔

حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 2147
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق. *قال الناشر: هذا الحديث ساقط من الأصل، ومعه خطأ في ترقيمه؛ بحيث قَفَزَ الترقيم رقما واحدا! فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2144»