صحیح ابن حبان
كتاب الإيمان— کتاب: ایمان کے احکام و مسائل
باب فرض الإيمان - ذكر الإخبار عن إيجاب الجنة لمن حلت المنية به وهو لا يجعل مع الله ندا- باب: ایمان کے فرض ہونے کا بیان - اس بات کی خبر کہ جو شخص اس حال میں فوت ہو کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو، اس کے لیے جنت واجب ہے۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ ثَوْبَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ مُعَاذْ بْنِ جَبَلٍ ، وَعَنْ عُمَيْرِ بْنِ هَانِئٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاذْ بْنَ جَبَلٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : قُلْتُ : حَدِّثْنِي بِعَمَلٍ يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ ، قَالَ : " بَخٍ بَخٍ سَأَلْتَ عَنْ أَمْرٍ عَظِيمٍ ، وَهُوَ يَسِيرٌ لِمَنْ يَسَّرَهُ الِلَّهِ بِهِ ، تُقِيمُ الصَّلاةَ الْمَكْتُوبَةَ ، وَتُؤْتِي الزَّكَاةَ الْمَفْرُوضَةَ ، وَلا تُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا " قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ الِلَّهِ عَنْهُ : قَوْلُهُ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا تُشْرِكْ بِاللَّهِ شَيْئًا " أَرَادَ بِهِ الأَمْرَ بِتَرْكِ الشِّرْكِ .عبدالرحمن بن غنم بیان کرتے ہیں: انہوں نے سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہوئے سنا، سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کی: آپ مجھے ایسے کسی عمل کے بارے میں بتائیے، جو مجھے جنت میں داخل کر دے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم نے بڑی چیز کے بارے میں دریافت کیا ہے اور یہ اس کے لئے آسان ہے، جس کے لئےاللہ تعالیٰ اسے آسان کر دے۔ ” تم فرض نمازیں ادا کرو، زکوۃ ادا کرو اور (کسی کو) اللہ کا شریک نہ ٹھہراؤ۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ” تم کسی کو اللہ کا شریک نہ ٹھہراؤ “ اس سے مراد شرک کو ترک کرنے کا حکم دینا ہے۔