صحیح ابن حبان
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
باب فرض متابعة الإمام - ذكر البيان بأن القوم إذا استووا في القراءة يجب أن يؤمهم من كان أعلم بالسنة باب: امام کی پیروی کی فرضیت کا بیان - اس بات کا بیان کہ اگر لوگ قراءت میں برابر ہوں تو اسے امامت کرنی چاہیے جو سنت کا زیادہ عالم ہو
أَخْبَرَنَا شَبَّابُ بْنُ صَالِحٍ الْمُعَدِّلُ ، بِوَاسِطٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ ، قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَصَاحِبٌ لِي ، فَقَالَ : " إِذَا صَلَّيْتُمَا فَأَذِّنَا وَأَقِيمَا وَلْيَؤُمَّكُمَا أَكْبَرُكُمَا " . قَالَ : وَكَانَا مُتَقَارِبَيْنِ . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَأَذِّنَا وَأَقِيمَا " ، أَرَادَ بِهِ أَحَدَهُمَا لا كِلَيْهِمَا .سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا میرے ساتھ میرا ایک دوست بھی تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم دونوں نماز ادا کرو تو اذان دو اور اقامت کہو تم دونوں میں سے جو بڑی عمر کا ہو، وہ امامت کرے۔ راوی کہتے ہیں: وہ دونوں ہم عمر تھے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ” کہ تم دونوں اذان دینا اور تم دونوں اقامت کرنا “ اس سے مراد یہ ہے کہ ان دنوں میں سے کوئی شخص ایسا کرے ایسا نہیں کہ وہ دونوں ایسا کریں۔