صحیح ابن حبان
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
باب فرض متابعة الإمام - ذكر البيان بأن القوم إذا استووا في القراءة يجب أن يؤمهم من كان أعلم بالسنة باب: امام کی پیروی کی فرضیت کا بیان - اس بات کا بیان کہ اگر لوگ قراءت میں برابر ہوں تو اسے امامت کرنی چاہیے جو سنت کا زیادہ عالم ہو
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْهَاشِمِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْمُونِ بْنِ الرَّمَّاحِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَجَاءٍ ، عَنْ أَوْسِ بْنِ ضَمْعَجٍ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَؤُمُّ الْقَوْمَ أَقْرَؤُهُمْ لِكِتَابِ اللَّهِ ، فَإِنْ كَانُوا فِي الْقِرَاءَةِ سَوَاءً ، فَأَعْلَمُهُمْ بِالسُّنَّةِ ، فَإِنْ كَانُوا فِي السُّنَّةِ سَوَاءً ، فَأَقْدَمُهُمْ هِجْرَةً ، فَإِنْ كَانُوا فِي الْهِجْرَةِ سَوَاءً ، فَأَكْبَرُهُمْ سِنًّا ، وَلا يُؤَمَّ الرَّجُلُ فِي سُلْطَانِهِ ، وَلا يُجْلَسَ عَلَى تَكْرِمَتِهِ فِي بَيْتِهِ حَتَّى يَأْذَنَ لَهُ " .سیدنا ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” لوگوں کی امامت وہ شخص کرے جو ان میں سے اللہ کی کتاب کا سب سے زیادہ علم رکھتا ہو اگر وہ لوگ قرأت کے حوالے سے برابر ہوں، تو وہ شخص کرے جو سنت کا زیادہ علم رکھتا ہو اگر وہ سنت کے علم کے حوالے سے برابر ہوں، تو وہ شخص کرے جس نے پہلے ہجرت کی ہو اگر وہ ہجرت کے حوالے سے برابر ہوں، تو وہ شخص کرے جس کی عمر زیادہ ہو، کسی شخص کی سربراہی کی جگہ پر امامت نہ کی جائے اور اس کے گھر میں اس کی مخصوص جگہ پر نہ بیٹھا جائے جب تک وہ شخص اس کی اجازت نہیں دیتا ۔“