حدیث نمبر: 2109
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَوْثَرَةُ بْنُ أَشْرَسَ الْعَدَوِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ أَبِي الصَّهْبَاءِ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ ، فَقَالَ : " أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ ؟ " قَالُوا : بَلَى ، نَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ . قَالَ : " أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنَّهُ مَنْ أَطَاعَنِي فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ ، وَمِنْ طَاعَةِ اللَّهِ طَاعَتِي ؟ " قَالُوا : بَلَى ، نَشْهَدُ أَنَّهُ مَنْ أَطَاعَكَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ ، وَمِنْ طَاعَةِ اللَّهِ طَاعَتُكَ . قَالَ : " فَإِنَّ مِنْ طَاعَةِ اللَّهِ أَنْ تُطِيعُونِي ، وَمِنْ طَاعَتِي أَنْ تُطِيعُوا أُمَرَاءَكُمْ ، وَإِنْ صَلُّوا قُعُودًا فَصَلُّوا قُعُودًا " .

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کچھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے درمیان موجود تھے۔ آپ نے ارشاد فرمایا: ” کیا تم لوگ یہ بات نہیں جانتے ہو، میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں ان لوگوں نے عرض کی: جی ہاں۔ ہم اس بات کی گواہی دیتے ہیں، آپ اللہ کے رسول ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا تم لوگ یہ بات نہیں جانتے ہو جو شخص میری اطاعت کرتا ہے وہ اللہ کی اطاعت کرتا ہے اور میری اطاعتاللہ تعالیٰ کی اطاعت کا حصہ ہے۔ ان لوگوں نے عرض کی: جی ہاں ہم اس بات کی گواہی دیتے ہیں، جو شخص آپ کی اطاعت کرتا ہے وہ اللہ کی اطاعت کرتا ہے اور آپ کی فرمانبرداری کرنااللہ تعالیٰ کی اطاعت کا حصہ ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں یہ بات شامل ہے، تم میری اطاعت کرو اور میری اطاعت میں یہ بات شامل ہے، تم امراء کی اطاعت کرو اگر وہ بیٹھ کر نماز ادا کرتے ہیں، تو تم لوگ بھی بیٹھ کر نماز ادا کرو ۔“

حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 2109
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الإرواء» (2/ 122). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن، حوثرة بن أشرس: روى عنه جمع، وذكره المؤلف في «الثقات» 8/ 215، وأورده ابن أبي حاتم 3/ 283 فلم يذكر فيه جرحاً ولا تعديلاً، وقد توبع، وباقي رجاله ثقات.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2106»