صحیح ابن حبان
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
باب فرض متابعة الإمام - ذكر خبر رابع يدل على أن هذا الأمر أمر فريضة وإيجاب على ما ذكرناه قبل باب: امام کی پیروی کی فرضیت کا بیان - چوتھی خبر کا ذکر جو اس بات کی دلیل ہے کہ یہ حکم ہمارے بیان کردہ کے مطابق فرض اور واجب ہے
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكِبَ فَرَسًا ، فَصُرِعَ عَنْهُ ، فَجُحِشَ شِقُّهُ الأَيْمَنُ ، قَالَ أَنَسٌ : فَصَلَّى لَنَا يَوْمَئِذٍ صَلاةً مِنَ الصَّلَوَاتِ وَهُوَ قَاعِدٌ ، فَصَلَّيْنَا وَرَاءَهُ قُعُودًا ، ثُمَّ قَالَ حِينَ سَلَّمَ : " إِنَّمَا جُعِلَ الإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ ، فَإِذَا صَلَّى الإِمَامُ قَائِمًا فَصَلُّوا قِيَامًا ، وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا ، وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا ، وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا ، وَإِذَا قَالَ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ، فَقُولُوا : رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ ، وَإِذَا صَلَّى قَاعِدًا فَصَلُّوا قُعُودًا أَجْمَعُونَ " .سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھوڑے پر سوار ہوئے آپ اس سے گر گئے۔ آپ کا دایاں پہلو زخمی ہو گیا۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: اس دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک نماز بیٹھ کر پڑھائی۔ ہم نے آپ کے پیچھے بیٹھ کر نماز ادا کی جب آپ نے سلام پھیرا تو ارشاد فرمایا: ” امام کو اس لیے مقرر کیا گیا ہے، تاکہ اس کی پیروی کی جائے۔ جب امام کھڑا ہو کر نماز ادا کرے تم لوگ بھی کھڑے ہو کر نماز ادا کرو جب وہ رکوع میں جائے، تو تم بھی رکوع میں جاؤ جب وہ رکوع سے سر اٹھائے، تو تم بھی اٹھاؤ جب وہ سجدے میں جائے، تو تم بھی سجدے میں جاؤ جب وہ «سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَہ» پڑھے تم «رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ» پڑھو جب وہ بیٹھ کر نماز ادا کرے تو تم سب بھی بیٹھ کر نماز ادا کرو ۔“