صحیح ابن حبان
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
باب فرض الجماعة والأعذار التي تبيح تركها - ذكر العلة التي من أجلها نهي عن إتيان الجماعة آكل الشجرة الخبيثة باب: جماعت کی فرضیت اور وہ عذر جو اسے چھوڑنے کی اجازت دیتے ہیں کا بیان - اس وجہ کا ذکر جس کی بنا پر بدبو دار درخت کھانے والے کو جماعت میں آنے سے منع کیا گیا
حدیث نمبر: 2090
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ الْمُنْتِنَةِ فَلا يَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا ، فَإِنَّ الْمَلائِكَةَ تَتَأَذَّى مِمَّا يَتَأَذَّى مِنْهُ النَّاسُ " .سیدنا جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” جو شخص اس بودار درخت (کا پھل) کھا لے وہ ہماری مسجد کے قریب ہرگز نہ آئے کیونکہ فرشتوں کو اس چیز سے اذیت محسوس ہوتی ہے، جس سے انسانوں کو اذیت محسوس ہوتی ہے ۔“