صحیح ابن حبان
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
باب فرض الجماعة والأعذار التي تبيح تركها - ذكر العذر العاشر وهو أكل الإنسان الثوم والبصل إلى أن يذهب ريحها باب: جماعت کی فرضیت اور وہ عذر جو اسے چھوڑنے کی اجازت دیتے ہیں کا بیان - دسویں عذر کا ذکر جو لہسن اور پیاز کھانا ہے جب تک ان کی بو ختم نہ ہو
حدیث نمبر: 2085
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ ، أَنَّ أَبَا النَّجِيبِ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَهُ ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ حَدَّثَهُ ، أَنَّهُ ذِكْرُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الثُّومُ وَالْبَصَلُ ، وَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَأَشَدُّ ذَلِكَ كُلِّهِ الثُّومُ أَفَنُحَرِّمُهُ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كُلُوهُ وَمَنْ أَكَلَهُ مِنْكُمْ فَلا يَقْرَبْ هَذَا الْمَسْجِدَ حَتَّى تَذْهَبَ رِيحُهُ " .سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں لہسن اور پیاز کا ذکر کیا گیا۔ عرض کیا گیا: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)! لہسن ان میں زیادہ بودار ہے کیا ہم اسے حرام سمجھیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم لوگ اسے کھاؤ البتہ تم میں سے جو شخص اسے کھاتا ہے وہ ہماری اس مسجد کے قریب اس وقت تک نہ آئے جب تک اس کی بو ختم نہ ہو جائے۔