صحیح ابن حبان
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
باب فرض الجماعة والأعذار التي تبيح تركها - ذكر العذر التاسع وهو وجود العلة التي يخاف المرء على نفسه العثر منها باب: جماعت کی فرضیت اور وہ عذر جو اسے چھوڑنے کی اجازت دیتے ہیں کا بیان - نویں عذر کا ذکر جو ایسی بیماری کا ہونا ہے جس سے آدمی کو گرنے کا خوف ہو
حدیث نمبر: 2084
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيِّ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ ، فَكَانَتْ لَيْلَةٌ ظَلْمَاءُ ، أَوْ لَيْلَةٌ مَطِيرَةٌ ، أَذَّنَ مُؤَذِّنُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ نَادَى مُنَادِيهُ : " أَنْ صَلُّوا فِي رِحَالِكُمْ " .سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: جب ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سفر کر رہے ہوتے تھے اور رات انتہائی تاریک ہوتی تھی۔ یا رات کے وقت بارش ہو جاتی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مؤذن یہ اعلان کرتا تھا (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اعلان کرنے والا یہ اعلان کرتا تھا۔ ” تم لوگ اپنی رہائشی جگہ پر ہی نماز ادا کر لو۔ “