صحیح ابن حبان
كتاب الإيمان— کتاب: ایمان کے احکام و مسائل
باب فرض الإيمان - ذكر دعاء المصطفى صلى الله عليه وسلم لمن شهد بالرسالة له وعلى من أبى ذلك- باب: ایمان کے فرض ہونے کا بیان - اس بات کا ذکر کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے دعا فرمائی جنہوں نے آپ کی رسالت کی گواہی دی اور ان پر بددعا فرمائی جنہوں نے انکار کیا۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي هَانِئٍ ، عَنْ أَبِي عَلِيٍّ الْجَنْبِيِّ ، عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَال : " الِلَّهِمْ مَنْ آمَنَ بِكَ ، وَشَهِدَ أَنِّي رَسُولُكَ ، فَحَبِّبْ إِلَيْهِ لِقَاءَكَ ، وَسَهِّلْ عَلَيْهِ قَضَاءَكَ ، وَأَقْلِلْ لَهُ مِنَ الدُّنْيَا ، وَمَنْ لَمْ يُؤْمِنْ بِكَ وَلَمْ يَشْهَدْ أَنِّي رَسُولُكَ ، فَلا تُحَبِّبْ إِلَيْهِ لِقَاءَكَ ، وَلا تُسَهِّلْ عَلَيْهِ قَضَاءَكَ ، وَأَكْثِرْ لَهُ مِنَ الدُّنْيَا " .سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” اے اللہ! جو شخص تجھ پر ایمان لائے، اور اس بات کی گواہی دے کہ میں تیرا رسول ہوں، تو اپنی بارگاہ میں حاضری اس کے لئے محبوب کر دے اور اپنے فیصلے (یعنی موت کو) اس کے لئے آسان کر دے اور دنیا کو اس کے لئے تھوڑا کر دے اور جو شخص تجھ پر ایمان نہ لائے، اور اس بات کی گواہی نہ دے کہ میں تیرا رسول ہوں، تو اپنی بارگاہ میں حاضری کو اس کے نزدیک محبوب نہ کرنا اور تو اپنے فیصلے (یعنی اس شخص کی موت) کو اس کے لئے آسان نہ کرنا اور اس کے لئے (دنیا کی) پریشانیاں اور مشکلات کو زیادہ کر دینا۔“