صحیح ابن حبان
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
باب فرض الجماعة والأعذار التي تبيح تركها - ذكر الأمر بالصلاة في الرحال عند وجود البرد الشديد باب: جماعت کی فرضیت اور وہ عذر جو اسے چھوڑنے کی اجازت دیتے ہیں کا بیان - شدید سردی کی موجودگی میں گھروں میں نماز پڑھنے کے حکم کا ذکر
حدیث نمبر: 2077
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ نَزَلَ بِضَجْنَانَ لَيْلَةً بَارِدَةً ، فَأَمَرَهُمْ أَنْ يُصَلُّوا فِي الرِّحَالِ ، وَحَدَّثَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا نَزَلَ فِي مَوْضِعٍ فِي اللَّيْلَةِ الْبَارِدَةِ : " أَمَرَهُمْ أَنْ يُصَلُّوا فِي الرِّحَالِ " .نافع بیان کرتے ہیں: شدید سرد رات میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بضجنان کے مقام پر پڑاؤ کیا، اور لوگوں کو یہ ہدایت کی، وہ اپنی رہائش والی جگہ پر ہی نماز ادا کر لیں۔ انہوں نے ہمیں یہ بات بتائی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سرد رات میں کسی جگہ پڑاؤ کرتے تھے، تو آپ لوگوں کو یہ حکم دیتے تھے وہ اپنی رہائشی جگہ پر ہی نماز ادا کر لیں۔