صحیح ابن حبان
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
باب فرض الجماعة والأعذار التي تبيح تركها - ذكر العذر الخامس وهو وجود المرء حاجة الإنسان في نفسه باب: جماعت کی فرضیت اور وہ عذر جو اسے چھوڑنے کی اجازت دیتے ہیں کا بیان - پانچویں عذر کا ذکر جو آدمی کی اپنی ذاتی ضرورت کا ہونا ہے
حدیث نمبر: 2071
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الأَرْقَمِ ، كَانَ يَؤُمُّ أَصْحَابَهُ ، فَحَضَرَتِ الصَّلاةُ يَوْمًا ، فَذَهَبَ لِحَاجَتِهِ ، ثُمَّ رَجَعَ ، فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِذَا وَجَدَ أَحَدٌ الْغَائِطَ ، فَلْيَبْدَأْ بِهِ قَبْلَ الصَّلاةِ " .سیدنا عبداللہ بن ارقم رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے وہ اپنے ساتھیوں کی امامت کیا کرتے تھے۔ ایک دن نماز کا وقت ہوا وہ قضائے حاجت کے لئے تشریف لے گئے پھر وہ واپس تشریف لائے اور انہوں نے بتایا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے۔ ” جب کسی شخص کو پاخانہ کی ضرورت محسوس ہو، تو نماز سے پہلے اسے وہ (حاجت پوری) کر لینا چاہئے۔ “