صحیح ابن حبان
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
باب فرض الجماعة والأعذار التي تبيح تركها باب: جماعت کی فرضیت اور وہ عذر جو اسے چھوڑنے کی اجازت دیتے ہیں کا بیان -
أَخْبَرَنَا حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو حَفْصٍ الأَبَّارُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، قَالَ : رَأَى أَبُو هُرَيْرَةَ رَجُلا قَدْ خَرَجَ مِنَ الْمَسْجِدِ ، وَقَدْ أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ ، فَقَالَ : " أَمَّا هَذَا فَقَدْ عَصَى أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : أُضْمِرَ فِي هَذَا الْخَبَرِ شَيْئَانِ ، أَحَدُهُمَا : وَقَدْ أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ وَهُوَ مُتَوَضِّئٌ ، وَالثَّانِي : وَهُوَ غَيْرُ مُؤَدٍّ لِفَرْضِهِ . أَبُو صَالِحٍ هَذَا مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ ، اسْمُهُ : مِيزَانُ ، ثِقَةٌ .ابوصالح بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو دیکھا جو مؤذن کے اذان دینے کے بعد مسجد سے باہر چلا گیا تھا تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس شخص نے سیدنا ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی ہے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس روایت میں دو اشیاء کا تذکرہ محذوف ہے ایک یہ کہ موذن نے اذان دے دی تھی۔ یہ کہ وہ اس وقت وضو کر رہا تھا۔ اور دوسری یہ کہ وہ فرض کو ادا کرنے والا نہیں تھا۔ ابوصالح نامی راوی کا تعلق بصرہ سے ہے اور اس کا نام میزان ہے اور یہ ثقہ ہے۔