صحیح ابن حبان
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
باب الإمامة والجماعة - فصل في فضل الجماعة - ذكر البيان بأن المأمومين كلما كثروا كان ذلك أحب إلى الله عز وجل باب: امام اور جماعت - جماعت کے بارے میں بیان - اس بات کا بیان کہ مأموم جتنے زیادہ ہوں، یہ اللہ عز وجل کو اتنا ہی زیادہ پسند ہے
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَصِيرٍ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ : صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ فَقَالَ : " أَشَاهِدٌ فُلانٌ ؟ " . قَالُوا : لا . فَقَالَ : " أَشَاهِدٌ فُلانٌ ؟ " . قَالُوا : لا . قَالَ : " إِنَّ هَاتَيْنِ الصَّلاتَيْنِ أَثْقَلُ الصَّلَوَاتِ عَلَى الْمُنَافِقِينَ ، وَلَوْ يَعْلَمُونَ فَضْلَ مَا فِيهِمَا لأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا ، وَإِنَّ الصَّفَّ الأَوَّلَ لَعَلَى مِثْلِ صَفِّ الْمَلائِكَةِ ، وَلَوْ تَعْلَمُونَ فَضِيلَتَهُ لابْتَدَرْتُمُوهُ ، وَصَلاةُ الرَّجُلِ مَعَ الرَّجُلَيْنِ أَزْكَى مِنْ صَلاتِهِ مَعَ رَجُلٍ وَكُلَّمَا كَثُرَ فَهُوَ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ " .سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں صبح کی نماز پڑھائی پھر آپ نے دریافت کیا: کیا فلاں شخص موجود ہے۔ لوگوں نے عرض کی: جی نہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا فلاں شخص موجود ہے۔ لوگوں نے عرض کی: جی نہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ دو نمازیں منافق کے لیئے سب سے زیادہ بوجھل نمازیں ہیں اگر انہیں ان دونوں نمازوں کی فضیلت کا پتہ چل جائے تو وہ ان دونوں نمازوں میں ضرور شریک ہوا اگرچہ وہ گھسٹ کر چل کر آئیں اور پہلی صف فرشتوں کی صف کی مانند ہے اگر تمہیں اس کی فضیلت کا پتہ چل جائے، تو تم تیزی سے اس کی طرف لپکو اور آدمی کا دو آدمیوں کے ہمراہ نماز ادا کرنا اس کے ایک آدمی کے ہمراہ نماز ادا کرنے سے زیادہ پاکیزہ ہے اور جب بھی (جماعت میں شریک لوگوں) کی تعداد زیادہ ہو گی، تو یہاللہ تعالیٰ کے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہو گا۔