صحیح ابن حبان
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
باب الإمامة والجماعة - فصل في فضل الجماعة - ذكر فضل صلاة الجماعة على صلاة الفذ بخمس وعشرين درجة باب: امام اور جماعت - جماعت کے بارے میں بیان - جماعت کی نماز کی فضیلت کا ذکر کہ یہ تنہا نماز سے پچیس درجے زیادہ ہے
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " فَضْلُ صَلاةِ الْجَمِيعِ عَلَى صَلاةِ الرَّجُلِ وَحْدَهُ خَمْسٌ وَعِشْرُونَ دَرَجَةً " . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : هَذَا الْخَبَرُ مِمَّا نَقُولُ فِي كُتُبِنَا بِأَنَّ الْعَرَبَ تَذْكُرُ الشَّيْءَ بِعَدَدٍ مَحْصُورٍ مَعْلُومٍ ، وَلا تُرِيدُ بِذِكْرِهَا ذَلِكَ الْعَدَدَ نَفْيًا عَمَّا وَرَاءَهُ ، وَلَمْ يُرِدْ بِقَوْلِهِ هَذَا أَنَّهُ لا يَكُونُ لِلْمُصَلِّي مِنَ الأَجْرِ بِصَلاتِهِ أَكْثَرُ مِمَّا وُصِفَ فِي خَبَرِ أَبِي هُرَيْرَةَ .سیدنا ابوہریرہ رضی الله عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” باجماعت نماز ادا کرنا آدمی کے تنہا نماز ادا کرنے پر پچیس گنا فضیلت رکھتا ہے۔ “ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یہ وہ روایت ہے جس کے بارے میں ہم اپنی کتابوں میں یہ بات بیان کر چکے ہیں کہ عرب بعض اوقات کسی چیز کا تذکرہ کسی متعین محدود تعداد کے ہمراہ کرتے ہیں لیکن اس عدد کے ذکر کرنے سے مراد یہ نہیں ہوتی کہ اس کے علاوہ عدد کی نفی کر دی جائے۔ اس لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان سے یہ مراد نہیں ہے کہ نمازی کو اپنی نماز میں اس سے زیادہ اجر نہیں ملتا جو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول روایت میں بیان کیا گیا ہے۔