صحیح ابن حبان
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
باب الإمامة والجماعة - فصل في فضل الجماعة - ذكر كتبة الله جل وعلا الصلاة للخارج إلى المسجد يريد أداء فرضه ما دام يمشي في طريقه إلى المسجد باب: امام اور جماعت - جماعت کے بارے میں بیان - اس بات کا ذکر کہ اللہ جل وعلا اس شخص کے لیے نماز لکھتا ہے جو اپنا فرض ادا کرنے کے لیے مسجد کی طرف جاتا ہے جب تک وہ مسجد کے راستے میں چلتا ہے
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ ، عَنْ سَعْدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو ثُمَامَةَ الْحَنَّاطُ ، أَنَّ كَعْبَ بْنَ عُجْرَةَ ، أَدْرَكَهُ وَهُوَ يُرِيدُ الْمَسْجِدَ ، قَالَ : فَوَجَدَنِي وَأَنَا مُشَبِّكٌ يَدَيَّ إِحْدَاهُمَا بِالأُخْرَى ، قَالَ : فَفَتَقَ يَدَيَّ وَنَهَانِي عَنْ ذَلِكَ ، وَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا تَوَضَّأَ أَحَدُكُمْ ، فَأَحْسَنَ وُضُوءَهُ ، ثُمَّ خَرَجَ عَامِدًا إِلَى الْمَسْجِدِ ، فَلا يُشَبِّكَنَّ يَدَهُ ، فَإِنَّهُ فِي صَلاةٍ " .ابوثمامہ حناط بیان کرتے ہیں: سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے ان کی ملاقات اس وقت ہوئی جب وہ مسجد میں جا رہے تھے۔ راوی کہتے ہیں: انہوں نے مجھے ایسی حالت میں پایا میں نے اپنے ہاتھ ایک دوسرے میں پھنسائے ہوئے تھے۔ انہوں نے میرے ہاتھ کھلوا دیئے اور مجھے ایسا کرنے سے منع کیا۔ انہوں نے یہ بات بتائی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے۔ ” جب کوئی شخص وضو کرے تو اچھی طرح وضو کرے اور پھر مسجد کی طرف جانے کے ارادے سے نکلے، تو وہ اپنے ہاتھوں کو ایک دوسرے میں داخل نہ کرے کیونکہ وہ شخص نماز کی حالت میں شمار ہوتا ہے ۔“