صحیح ابن حبان
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
فصل في القنوت - ذكر ما يستحب للمرء أن يستعين بالله جل وعلا في دعائه في عقيب الصلاة على قتال أعدائه باب: نماز میں قنوت پڑھنے کا بیان - اس بات کا ذکر کہ آدمی کے لیے مستحب ہے کہ وہ اپنی نماز کے بعد دعا میں اللہ جل وعلا سے اپنے دشمنوں سے لڑنے کی مدد مانگے
حدیث نمبر: 2027
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ صُهَيْبٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَ أَيَّامَ خَيْبَرَ يُحَرِّكُ شَفَتَيْهِ بِشَيْءٍ بَعْدَ صَلاةِ الْفَجْرِ ، فَقِيلَ لَهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّكَ تُحَرِّكُ شَفَتَيْكَ بِشَيْءٍ مَا كُنْتَ تَفْعَلُهُ ، فَمَا هَذَا الَّذِي تَقُولُ ؟ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَقُولُ : اللَّهُمَّ بِكَ أُحَاوِلُ ، وَبِكَ أُقَاتِلُ ، وَبِكَ أُصَاوِلُ " .سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جنگ خیبر کے دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی نماز کے بعد اپنے ہونٹوں کو حرکت دے کر کچھ پڑھ رہے تھے۔ آپ کی خدمت میں عرض کی گئی: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)! آپ اپنے ہونٹوں کو حرکت دے کر کیا پڑھ رہے تھے؟ وہ کیا چیز ہے، جو آپ کہہ رہے تھے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں یہ پڑھ رہا تھا۔ ” اے اللہ! میں تیری مدد سے بچاؤ کرتا ہوں تیری مدد سے جنگ کرتا ہوں اور تیری مدد سے حملہ کرتا ہوں ۔“