صحیح ابن حبان
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
فصل في القنوت - ذكر ما يستحب للمرء أن يسأل الله جل وعلا في عقيب الصلاة التفضل عليه بمغفرة ما تقدم من ذنبه باب: نماز میں قنوت پڑھنے کا بیان - اس بات کا ذکر کہ آدمی کے لیے مستحب ہے کہ وہ نماز کے بعد اللہ جل وعلا سے اپنے پچھلے گناہ کی مغفرت مانگے
حدیث نمبر: 2025
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَمِّهِ الْمَاجِشُونِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا فَرَغَ مِنَ الصَّلاةِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ ، وَمَا أَخَّرْتُ ، وَمَا أَسْرَرْتُ ، وَمَا أَعْلَنْتُ ، وَمَا أَسْرَفْتُ ، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي ، أَنْتَ الْمُقَدَّمُ ، وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ ، لا إِلَهَ إِلا أَنْتَ " .سیدنا علی بن ابوطالب رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز پڑھ کر فارغ ہوتے تھے، تو آپ یہ پڑھتے تھے۔ ” اے اللہ! جو میں نے پہلے کیا، اور جو بعد میں کروں گا اور جو میں نے پوشیدہ طور پر کیا جو اعلانیہ طور پر کیا، اور جو اسراف کیا، اور ہر وہ چیز جس کے بارے میں، تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے ان سب کے حوالے سے میری مغفرت کر دے، تو آگے کرنے والا ہے، تو پیچھے کرنے والا ہے تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے۔ “