صحیح ابن حبان
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
فصل في القنوت - ذكر مغفرة الله جل وعلا ما سلف من ذنوب المسلم بقوله ما وصفنا في عقيب الصلوات المفروضات باب: نماز میں قنوت پڑھنے کا بیان - اس بات کا ذکر کہ اللہ جل وعلا ہمارے بیان کردہ الفاظ کو فرض نمازوں کے بعد کہنے سے مسلمان کے پچھلے گناہ معاف کر دیتا ہے
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ سَبَّحَ اللَّهَ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلاةٍ ثَلاثًا وَثَلاثِينَ ، وَحَمَدَهُ ثَلاثًا وَثَلاثِينَ ، وَكَبَّرَهُ ثَلاثًا وَثَلاثِينَ ، فَتِلْكَ تِسْعٌ وَتِسْعُونَ ، وَقَالَ تَمَامَ الْمِائَةِ : لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَحْدَهُ لا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ ، وَلَهُ الْحَمْدُ ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، غُفِرَتْ لَهُ خَطَايَاهُ وَإِنْ كَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ " . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : أَبُو عُبَيْدٍ هَذَا ، حَاجِبُ سُلَيْمَانَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ رَوَى عَنْهُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ .سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” جو شخص ہر نماز کے بعد تینتیس مرتبہ سبحان اللہ تینتیس مرتبہ الحمداللہ پڑھتا ہے تینتیس مرتبہ اللہ اکبر پڑھتا ہے، تو یہ ننانوے بن جاتے ہیں۔ وہ اس کلمے کو پڑھ کر سو کو مکمل کرے۔ “اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے۔ وہی ایک معبود ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ بادشاہی اسی کے لئے مخصوص ہے۔ حمد اسی کے لئے مخصوص ہے اور وہ ہر شے پر قدرت رکھتا ہے۔ “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: تو اس شخص کے گناہوں کی مغفرت ہو جاتی ہے۔ اگرچہ وہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہوں۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ابوعبید نامی راوی سلیمان بن عبدالملک کا دربان تھا اس سے امام مالک نے روایات نقل کی ہیں۔