صحیح ابن حبان
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
فصل في القنوت - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن هذه السنة تفرد بها أبو هريرة باب: نماز میں قنوت پڑھنے کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس دعوے کو رد کرتا ہے کہ یہ سنت صرف ابو ہریرہ نے بیان کی
أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سِنَانٍ الْقَطَّانُ ، بِوَاسِطٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَرْمَلَةَ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ خُفَافِ بْنِ رَحَضَةَ الْغِفَارِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ خُفَافٍ ، قَالَ : رَكَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلاةِ ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ ، فَقَالَ : " غِفَارٌ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا ، وَأَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ ، وَعُصَيَّةُ عَصَتِ اللَّهَ وَرَسُولَهِ ، اللَّهُمَّ الْعَنْ بَنِي لِحْيَانَ ، اللَّهُمَّ الْعَنْ رِعْلا ، وَذَكْوَانَ " ، ثُمَّ كَبَّرَ ، وَوَقَعَ سَاجِدًا . قَالَ : فَجَعَلَ لَعْنَةَ الْكَفَرَةِ مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ .حارث بن خفاف غفاری اپنے والد سیدنا خفاف رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے دوران رکوع میں گئے پھر آپ نے اپنا سر اٹھایا اور ارشاد فرمایا: ” غفار قبیلے کیاللہ تعالیٰ مغفرت کرے اسلم قبیلے کواللہ تعالیٰ سلامت رکھے عصیہ قبیلے “ نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی ہے۔ اے اللہ! بنولحیان پر لعنت کر اے اللہ! رعل اور ذکوان (قبیلوں) پر لعنت کر۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تکبیر کہتے ہوئے سجدے میں چلے جاتے تھے۔ راوی بیان کرتے ہیں کفار پر لعنت اسی وجہ سے کی جاتی ہے۔