صحیح ابن حبان
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
فصل في القنوت - ذكر البيان بأن المرء جائز له في قنوته أن يسمي من يقنت عليه باسمه ومن يدعو له باسمه باب: نماز میں قنوت پڑھنے کا بیان - اس بات کا بیان کہ آدمی کے لیے اپنے قنوت میں جائز ہے کہ وہ اس شخص کا نام لے جس کے خلاف وہ قنوت کرتا ہے اور اس کے لیے دعا کرتا ہے
حدیث نمبر: 1983
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَزْرَقُ بْنُ عَلِيٍّ أَبُو الْجَهْمِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَسَّانُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، وَأَبُو سَلَمَةَ ، أنهما سمعا أبا هريرة ، يَقُولُ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ حِينَ رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ فِي صَلاةِ الْفَجْرِ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ بَعْدَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ : رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ ، اللَّهُمَّ أَنْجِ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ ، وَسَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ ، وَعَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ ، مِنَ الْمُؤْمِنِينَ ، اللَّهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ ، وَاجْعَلْهَا سِنِينَ كَسِنِي يُوسُفَ " .سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی نماز میں دوسری رکعت کے بعد جب رکوع سے سر اٹھاتے تھے اور «سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ» پڑھ لیتے تھے، پھر یہ کہتے تھے: ” اے اللہ! تو ولید بن ولید، سلمہ بن ہشام، عیاش بن ابوربیعہ، کمزور اہل ایمان کو نجات عطا کر اے اللہ! تو مضر قبیلے پر اپنی سختی نازل کر اور ان پر سیدنا یوسف علیہ السلام کے زمانے کی سی قحط سالی مقرر کر دے ۔“