صحیح ابن حبان
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
باب صفة الصلاة - ذكر الدعاء الذي يعطى سائل الله ما سأل في موضع من صلاته باب: نماز کے طریقہ کا بیان - اس دعا کا ذکر جو اللہ سے مانگنے والے کو اس کی نماز کے ایک مقام پر وہ ملتا ہے جو اس نے مانگا
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ كَانَ قَائِمًا يُصَلِّي ، فَلَمَّا بَلَغَ رَأْسَ الْمِائَةِ مِنَ النِّسَاءِ ، أَخَذَ يَدْعُو ، فَقَالَ الَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سَلْ تُعْطَهْ " ، ثَلاثًا ، فَقَالَ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ إِيمَانًا لا يَرْتَدُّ ، وَنَعِيمًا لا يَنْفَدُ ، وَمُرَافَقَةَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَعْلَى جُنَّةِ الْخُلْدِ .زر بن حبیش بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر نماز ادا کر رہے تھے جب انہوں نے سورۃ النساء کی ایک سو آیات کی تلاوت کر لی، تو وہ دعا مانگنے لگے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم مانگو تمہیں دیا جائے گا۔ یہ بات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے یہ دعا مانگی: ” اے اللہ! میں تجھ سے ایسے ایمان کا سوال کرتا ہوں جو مرتد نہ ہو اور ایسی نعمت کا سوال کرتا ہوں جو ختم نہ ہو اور جنت الخلد کے اعلی درجہ میں سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کا سوال کرتا ہوں۔ “