صحیح ابن حبان
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
باب صفة الصلاة - ذكر الإباحة للمصلي أن يسمي من شاء في دعائه في صلاته باب: نماز کے طریقہ کا بیان - اس بات کی اجازت کا ذکر کہ نمازی اپنی نماز میں دعا میں جسے چاہے نامزد کرے
حدیث نمبر: 1969
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : لَمَّا رَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الرَّكْعَةِ الآخِرَةِ مِنْ صَلاةِ الصُّبْحِ ، قَالَ : " اللَّهُمَّ أَنْجِ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ ، وَسَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ ، وَعَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ ، اللَّهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ ، وَاجْعَلْهَا عَلَيْهِمْ سِنِينَ كَسِنِي يُوسُفَ " .سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز کی آخری رکعت سے سر اٹھایا (یعنی رکوع سے اٹھے) تو آپ نے یہ دعا مانگی: ” اے اللہ! ولید بن ولید، سلمہ بن ہشام، عیاش بن ابوربیعہ کو نجات عطا کر، اے اللہ! مضر قبیلے پر اپنی سختی نازل کر اور ان پر سیدنا یوسف کے زمانے کی سی قحط سالی مسلط کر دے ۔“