صحیح ابن حبان
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
باب صفة الصلاة - ذكر البيان بأن الإشارة بالسبابة يجب أن تكون إلى القبلة باب: نماز کے طریقہ کا بیان - اس بات کا بیان کہ شہادت کی انگلی سے اشارہ قبلہ کی طرف ہونا چاہیے
أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُعَاوِيِّ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، ، أَنَّهُ رَأَى رَجُلا يُحَرِّكُ الْحَصَى بِيَدِهِ وَهُوَ فِي الصَّلاةِ فَلَمَّا انْصَرَفَ ، قَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ : " لا تُحَرِّكِ الْحَصَى وَأَنْتَ فِي الصَّلاةِ ، فَإِنَّ ذَلِكَ مِنَ الشَّيْطَانِ ، وَلَكِنِ اصْنَعْ كَمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ ، قَالَ : " فَوَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى فَخِذِهِ ، وَأَشَارَ بِأُصْبُعِهِ الَّتِي تَلِي الإِبْهَامَ إِلَى الْقِبْلَةِ ، وَرَمَى بِبَصَرِهِ إِلَيْهَا أَوْ نَحْوَهَا " ، ثُمَّ قَالَ : هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ .سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات منقول ہے، انہوں نے ایک شخص کو نماز کے دوران اپنے ہاتھ کے ذریعے کنکریوں کو حرکت دیتے ہوئے دیکھا جب اس نے نماز مکمل کی تو سیدنا عبداللہ نے اس سے فرمایا تم نماز کے دوران کنکریوں کو حرکت نہ دو کیونکہ یہ عمل شیطان کی طرف سے ہوتا ہے بلکہ تم اس طرح کرو جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کیا کرتے تھے۔ راوی بیان کرتے ہیں: پھر سیدنا عبداللہ بن عمر نے اپنا دایاں ہاتھ اپنے زانو پر رکھا اور انہوں نے انگوٹھے کے ساتھ والی انگلی کے ذریعہ قبلہ کی طرف اشارہ کیا۔ انہوں نے اپنی نگاہ اس انگلی کی طرف (راوی کو شک ہے، شاید یہ الفاظ ہیں:) اس انگلی کی سمت رکھی۔ پھر انہوں نے فرمایا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح کرتے ہوئے دیکھا۔