صحیح ابن حبان
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
باب صفة الصلاة - ذكر مغفرة الله جل وعلا ما تقدم من ذنوب العبد بقوله اللهم ربنا ولك الحمد في صلاته إذا وافق ذلك قول الملائكة باب: نماز کے طریقہ کا بیان - اس بات کا ذکر کہ اللہ جل وعلا اپنی نماز میں "اللہم ربنا ولك الحمد" کہنے سے بندے کے پچھلے گناہ معاف کر دیتا ہے اگر وہ فرشتوں کے قول سے موافق ہو
حدیث نمبر: 1911
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ سُمَيٍّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا قَالَ الإِمَامُ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ، فَقُولُوا : اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ ، فَمَنْ وَافَقَ قَوْلُهُ قَوْلَ الْمَلائِكَةِ ، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ " .سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” جب امام «سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» کہے، تو تم لوگ «اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ» پڑھو جس شخص کا یہ پڑھنا فرشتوں کے کہنے کے ہمراہ ہو گا۔ اس شخص کے گزشتہ گناہوں کی مغفرت ہو جائے گی ۔“