صحیح ابن حبان
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
باب صفة الصلاة - ذكر الأمر بتعظيم الرب جل وعلا في الركوع والسجود للمصلي باب: نماز کے طریقہ کا بیان - نمازی کے لیے رکوع اور سجدے میں رب جل وعلا کی تعظیم کے حکم کا ذکر
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ سُحَيْمٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: كَشَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السِّتَارَةَ ، وَالنَّاسُ صُفُوفٌ خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ ، فَقَالَ: " أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّهُ لَمْ يَبْقَ مِنْ مُبَشِّرَاتِ النُّبُوَّةِ إِلا الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ يَرَاهَا الْمُسْلِمُ أَوْ تُرَى لَهُ " . ثُمَّ ثُمَّ قَالَ: " أَلا إِنِّي نُهِيتُ أَنْ أَقْرَأَ رَاكِعًا ، أَوْ سَاجِدًا ، أَمَّا الرُّكُوعُ ، فَعَظِّمُوا فِيهِ الرَّبَّ ، وَأَمَّا السُّجُودُ ، فَاجْتَهِدُوا فِي الدُّعَاءِ ، فَقَمِنٌ أَنْ يُسْتَجَابَ لَكُمْ " .سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پردہ ہٹایا لوگ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے صفیں بنائے ہوئے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے لوگو! نبوت کے مبشرات میں سے صرف سچے خواب باقی رہ گئے ہیں، جنہیں کوئی مسلمان دیکھتا ہے یا جو اسے دکھائے جاتے ہیں پھر آپ نے ارشاد فرمایا: خبردار مجھے رکوع یا سجدے کی حالت میں تلاوت کرنے سے منع کیا گیا ہے جہاں تک رکوع کا تعلق ہے، تو تم اس میں پروردگار کی عظمت کا اعتراف کرو اور جہاں تک سجدے کا تعلق ہے، تو تم اس میں اہتمام کے ساتھ دعا مانگو۔ وہ اس لائق ہو گی، اسے تمہارے لئے مستجاب کیا جائے۔