صحیح ابن حبان
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
باب صفة الصلاة - ذكر ما يستحب للمصلي رفع اليدين عند قيامه من الركعتين من صلاته باب: نماز کے طریقہ کا بیان - اس بات کا ذکر کہ نمازی کے لیے مستحب ہے کہ وہ اپنی دو رکعتوں سے کھڑے ہونے پر ہاتھ اٹھائے
حدیث نمبر: 1878
أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَوْدُودٍ بِحَرَّانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنِ الْمُسَيِّبِ بْنِ رَافِعٍ ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ طَرَفَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِذَا النَّاسُ رَافِعُوا أَيْدِيهِمْ فِي الصَّلاةِ ، فَقَالَ : " مَا لِي أَرَاكُمْ رَافِعِي أَيْدِيكُمْ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ خَيْلٍ شُمْسٍ ؟ اسْكُنُوا فِي الصَّلاةِ " .سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اس دوران کچھ لوگوں نے نماز کے دوران رفع یدین کیا، تو آپ نے ارشاد فرمایا: کیا وجہ ہے میں تمہیں دیکھ رہا ہوں، تم اپنے ہاتھ یوں بلند کر رہے ہو، جس طرح وہ سرکش گھوڑوں کی دمیں ہوتی ہیں تم لوگ نماز کے دوران سکون کی حالت میں رہا کرو۔